دل گرفتہ

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - غمگین، اداس، ملول۔ "میں دل گرفتہ نہیں ہوتا کیونکہ سلاطین کا یہ دستور نہیں کہ کسی کو ایک دم بڑے رتبے پر پہنچا دیں۔"      ( ١٩٠٧ء، شعرالحجم، ٧٧ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم جامد 'دل' کے ساتھ 'گرفتن' مصدر سے حالیہ تمام 'گرفتہ' لگایا گیا ہے اردو میں ١٧٩٤ء کو بیدار کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - غمگین، اداس، ملول۔ "میں دل گرفتہ نہیں ہوتا کیونکہ سلاطین کا یہ دستور نہیں کہ کسی کو ایک دم بڑے رتبے پر پہنچا دیں۔"      ( ١٩٠٧ء، شعرالحجم، ٧٧ )